صفحات

ہفتہ، 19 جولائی، 2014

انقلاب چاہئے یا اخوت ؟

ایک زمانےسے سن رہا ہوں کہ انقلاب آ رہا ہے ۔ میں نے بھی باقی لوگوں کے ساتھ انقلاب کی آس لگا رکھی ہے۔ اور ذہن میں یہ بٹھا دیا ہے کہ بہت سارے مختلف کام انقلاب کی آمد تک ممکن ہی نہیں ۔اور انقلاب کیسے آئے گا جبکہ انقلاب کی تمام تر کوششیں کچھ اپنوں کی نادانیوں اور کچھ اغیار کی سازشوں کی وجہ سے ناکام ہو گئ ہیں۔ ہر وہ قوت یا تحریک جو انقلاب کا نعرہ لگا کر آگے آئی اسے ناکامی کا سامنا ہوا۔ پھر انقلاب کیسے آئے۔
ایک بات جو ہمیں اپنے پیارے نبئ رحمت صل اللہ علیہ وصلم کی حیاتِ طیبہ سے ملی وہ ہے بے داغ ماضی اور نظریہ پر مضبوط ایمان ۔ اگر ماضی بے داغ ہے اور نظریہ پر پختہ یقین ہے تو وہ بندہ ضرور انقلاب لے آئے گا ۔ کیونکہ ایسے رہنما پر عوام کو یقین ہو گا اور اغیار کی سازش اس رہنما پر چل نہیں سکے گی ۔
اب پھر انقلاب کیسے آئے؟ سوال وہیں پر موجود ہے اور جب تک انقلاب نہیں آجاتا تو ہم اسی طرح ظلم کرتے رہیں اور ظلم برداشت کرتے رہیں ؟ اور اگر اس سفر میں کئی صدیاں گزر جائیں تو ہم عام عوام اپنا ضمیر،دین،ایمان اور اخلاص بیچتے رہیں ؟ اور سب سے بڑی بات غریب عوام کی بے چارگی اور سسکیاں ایسےہی دیکھتے رہیں اور سسکتے رہیں؟ 
پھر کچھ یوں ہوا کہ ایک دن ایک افطار کا دعوت نامہ ملا ۔ اور ایک دوست کے اصرارپر وہاں چلا گیا ۔

جب کارروائ شروع ہوئ تو خیال آیا کہ یہ کیا کہانی ہے۔۔ ایک  شخص ڈاکٹرامجد ثاقب ،چودہ سال پہلے ایک کام شروع کرتا ہے اور اس نے پانچ لاکھ سے زائد افراد کواپناروزگار چلانے کیلئے نو ارب روپے سے زائد بلا سودقرضے دے دئے ہیں ؟ یہ کیا ہے؟ جب اس معاشرے میں لوگ بھیک تو دیتے ہیں مگر مزدوری پوری نہیں دیتے ۔ جب ناکام زندگی کے طعنے تو دیتے ہیں مگر کوئی اپنے پاوں پر کھڑا نہیں کر سکتا۔ اور حیرت کی بات۔۔۔ ان قرض لینے والوں میں تقریبا سو فیصد لوگوں نے واپس بھی کر دئے ہیں ۔۔
میں کیسے مان لوں؟ مجھے تو یہی سمجھایا گیا ہے کہ سودی نظام کی جکڑ سے چھٹکارہ نا ممکن ہے اور یہاں ہم نے تو یہی سبق سیکھا ہے کی جب کوئ پیسے لے لیتا ہے تو واپسی بہت مشکل ہوتی ہے ۔ بلا سود قرضہ تو اس قوم کا خواب ہی بن کر رہ گیاہے۔ مگر یہ کام اخوت فا ونڈیشن کی ٹیم نے کر دکھایا ۔

مگر پتہ چل گیا کی یہی انقلاب ہے جو پانچ لاکھ گھرانوں کی زندگیوں میں آگیا ہے  اور پانچ لاکھ خود مختار لوگ اور کئ لوگوں کو خودمختار بنانے کیلیے تیار ہیں اسطرح اور نہ جانے کتنے اور لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آیا چاہتا ہے۔ مجھےتو اپنے سوال کا جوب مل گیا ۔۔۔ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ انقلاب لانا چاہتا ہے تو وہ صرف کام شروع کردے وہ کوئ اخوت بنا لےیا کسی اخوت کا حصہ بن جائے اور اس معاشرے میں رہتے ہوئے انقلاب لانا شروع کردے۔اخوت کی مثال نے عملاً یہ ثابت کر دیا کہ انقلاب فقط سیاسی تبدیلی کا نام نہیں ہے سماج میں ہمہ جہت تبدیلی کیلیے ضروری ہے کہ ہر شخص جہاں تک ممکن ہو انصاف کے انقلاب کیلیےانصاف لینے میں لوگوں کی مدد شروع کردے، تعلیم میں انقلاب کیلیے لوگوں کو تعلیم دینا شروع کر دے، صحت کے انقلاب کیلیے لوگوں کو صحت کی سہولتیں دینا شروع کردے تو وہ انقلاب کے سفر پر گامزن تو ہو جائے گا ورنہ اقتدار کی تلاش میں تو کبھی سفر شروع ہی نہیں ہوگا۔ یقیناً معزز ہیں وہ لوگ جو انقلاب کے سفر پر گامزن ہیں۔
   

4 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

آپ نے درست کہا ہے ۔ انقلاب لانے کا ایک ہی طریقہ کہ محنت اور لگن سے کام کیا جائے اور باقی سب کچھ اللہ پت چھوڑ دیا جائے ۔ یہی طریقہ ہمیں ہمارے نبی سیّنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے بتایا اور زمانہءِ حال میں قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی یہی کہا تھا کام کام کام اور بس کام۔
جو تبدیلی اور انقلاب کی باتیں آجکل ہم دیکھ رہے ہیں یہ ڈرامے ہیں اور کرنے والے سب بہروپیئے ہیں جو ہمیں بیوقوف بنا کر اپنا اُلو سیھا کرنا چاہتے ہیں ۔
اللہ کرے میرے ہموطن جاگ اُٹھین اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے بتائے ہوئے راسدت پر چل پڑیں

گمنام کہا...

agreed

عامر ملک کہا...

اس میں کوئی شک نہیں کہ اجتماعی کوشش کے ساتھ ساتھ ہر شعبہ زندگی میں اخلاص اور ایمانداری سے کام آپ کو رب کے ہاں سرخ رو کردیتا ہے۔
تسلسل کے ساتھ ایسے کام/پروجیکٹس جو عامۃ الناس کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیے جائیں ایک مثبت معاشرے کو جنم دیتے ہیں۔

عمران صاحب آپ تبصروں کی پروا کیے بغیر لکھتے رہیں۔ آپ کی تحریر میں پختگی آتی جارہی ہے۔

M. Imran Iqbal کہا...

تمام احباب کا شکریہ کہ آپ لوگوں نے اپنے تبصروں سے نوازا۔ بات ایسے ہی ہے کہ
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا