صفحات

ہفتہ، 30 مئی، 2015

گدھے کا گوشت، قدرت کا انتقام

معاشرے میں جس طرح کرپشن سرایت کر چکی ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ کبھی بھی ختم نہیں ہو گی۔
 میں یہ سوچتا تھا کہ یہ نظام کیسے درست ہو گا اور یہ ظلم اور کرپشن کیسے ختم ہو گی لیکن  جب سے مجھے پتا چلا کہ گدھوں کا گوشت تمام اربابِ اختیار کے کھانوں میں پہنچ چکا ہے تو مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا ہے اوراب  میں پر سکون ہو گیا ہوں۔

مجھے قدرت کی وہ سٹریٹجی سمجھ میں آگئ ہے جس سے وہ ان کرپٹ لوگوں کا خاتمہ کرے گی اور کرپٹ لوگوں کو اسی نظام کی چکی پیس سے دے گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سمجھدار کیلیے اشارہ ہے ۔

جب سے مجھے پتہ چلا ہے کی تقریباً ہرحکمران، وزیر اور اعلی عہدیدار تک گدھے کا گوشت پہنچ چکا ہے تو مجھے یقین ہو گیا کہ اب قدرت ان سے ان کے اعمال کا بدلہ لینے پر آچکی ہے۔ جب حکمران کرپٹ ہونگے تو وہ اپنے آپ کو بچانے کیلئے اپنے ارد گرد کوئ نیک یا پارسا لوگ تو اکٹھے نہیں کرینگے نا ۔

اب اگر نا اہل اور کرپٹ پولیس والے بھرتی کر دئے جائیں گے تو وہی پولیس اہلکار ان کی حفاظت بھی کریں گے ۔ مگر نا اہل ہونے کی وجہ سے یقیناً انہی کی نا اہلی سے مارے جائیںگے ۔ جیسے کی کچھ دن پہلے ایک غیر متعلقہ شخس سینیٹ میں پہنچ گیا تھا ۔

اب اگر میں جعلی دوائ کی اجازت رشوت لے کر دے دونگا تو میرا بیٹا،بیٹی، بیوی اور میں خود بھی تو وہی دو کھاوں گا اور پھر اس ملاوٹ کے مزے لوں گا ۔ میرے جییسے بیوقوف شخص نہیں ہوگا جو یہ سمجھے کہ امپورٹڈ پیکنگ میں بکنے والی دوائ دراصل میرے محلے تیار کی گئ ہے ۔

بھائ کرپٹ لوگ کیسے کسی نیک اور پارسا کو ڈاکٹر لگا سکتے ہیں، اور وہ اپنے جیسے کسی کو ڈاکٹر لگا ئیں گے تو کسی ایک دن ان کو خود یا ان کی آل میں سے کسی کو اسی سے دوائ لینی ہے ۔

نااہل اور کرپٹ محکمہ صحت کے لوگوں کی وجہ سے اگر غیر صحتمند گوشت بازار میں دستیاب ہے تو یقیناًً ان ناہل لوگوں کا خاندان اور یہ خود بھی گدھے کا گوشت ہی کھا رہے ہوںگے۔ جیسے کہ قصابوں نے مانا کہ جو گوشت فوڈ انسپکٹر کے گھر میں گوشت جاتا تھا وہ بھی گدھے کا گوشت ہوتا تھا ۔

اگرارباب اختیار ایر لائین میں نااہل لوگ بھرتی کرینگے تو خود بھی ایک دن اسی نااہل بندے کے ہاتھوں قدرتی انتقام کا شکار ہونگے ۔

مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ اس تحریر سے ان لوگوں کو کوئ فرق نہیں پڑے گا جو اس کرپٹ نظام کا حصہ بن چکے ہیں وہ اب بھی کئ دلائل دیں گے اور اپنے آپ کو بالکل بے گناہ اور مجبور ثابت کرینگے مگر میں کیا کروں جب کہ مجھے نظر آرہاہے کہ قدرت تو انتقام لینے پر تیا ر کھڑی ہے۔ کبھی وہ گدھے کا گوشت کھلائے گی کبھی وہ جعلی دوائ دلوائے گی کبھی چھپکلی والا برگر کھلا دے گی کبھی ڈاکٹر سے غلط آپریشن کروا دے گی اور کبھی بچے کو نشے میں مبتلا کروا کر مستقبل تباہ کروا دےگی ۔ آئیں ہم مزے کرتے ہیں اور قدرت کے انتقام کا انتظار کرتے ہیں ۔

6 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

السلام علیکم
گُستاخی معاف ۔ میں چھوڑتا نہیں ہوں بلکہ اظہارِ خیال کرتا ہوں جو ظاہر ہے میری تعلیم اور میرے تجربہ کے مطابق ہوگا جو بہت کم ہیں
میری یاد داشت اگر درست ہے تو عمران اقبال نامی ایک صاحب دبئی میں قیام پذیر تھے ۔ کیا لاہور والے ایم عمران اقبال صاحب وہی ہیں یا مُختلف ؟
گدھے کا گوشت حاکموں تک پہنچنے والی بات میرے چھوٹے سے ذہن میں گھُس نہیں پا رہی البتہ لاہور یا کسی اور شہر میں گدھے کا گوشت بِکنے کی خبر کچھ عرصہ قبل اخبار میں پڑھی تھی
بد دیانت (فی زمانہ کرپٹ کہے جانے والے) سب بد دیانت نہیں ہوتے ۔ میں نے سرکاری ملازمت کا مزا گریڈ 17 سے گریڈ 20 تک چکھا ہے اور جسے آپ کرپشن کہتے ہیں اور میں بد دیانتی سے تنگ آ کر میں ابھی 52 سال کا بھی نہ ہوا تھا کہ ریٹائرمنٹ مانگ لی تھی ۔ مجھے دوران ملازمت مختلف اداروں کی سربراہی کا شرف بھی حاصل ہوا
ایسا بھی ہوتا ہے کہ اعلٰی عہدیدار جو سفاشوں سے بچنے کیلئے عام میل جول نہیں رکھتا ۔ اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بدنیت لوگ اس کا نام لے کر اپنے کام کرواتے ہیں
سب سرکاری ملازم بد دیانت نہیں ہوتے اور خاص بات یہ ہے کچھ اعلٰی عہدار لوگوں کے غلط کام نہیں کرتے ۔ اس وجہ سے اُنہیں بدنام کرنے کیلئے بد دیانت کہا جاتا ہے اور اس میں ذرائع ابلاغ از خود شامل ہوتے ہیں یا کوئی اُن کی جیب بھر کے اُن سے کام لیتا ہے ۔ میں ٹی وی پر دانشور کے خطاب کے ساتھ ایسے لوگوں کو بھی دیکھتا ہوں جن کے ساتھ ملازمت میں میرا بہت قریبی واسطہ رہا اور جانتا ہوں کہ اُنہوں نے اپنی جیبیں قوم کے مال سے خوب بھریں تھیں اور اب نام نہاد بے لاگ تبصرے اہم قومی معاملات پر کرتے ہیں
اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی مجھے اور سب کو سیدھی راہ پر چلائے

Iftekhar Kashmiri کہا...

Gadhay gadhay ko kha gayay.

Iftekhar Kashmiri کہا...

Gadhay gadhay ko kha gayay

گمنام کہا...

معاف کیجیے گا !

لگتا ہے آپ نےمحض
اتنی سی بات سوچ کر کہ حکمران و وذرا حضرات بھی اسی دوکان سے گوشت منگواتے ہونگے جن دوکانوں سے عام پبلک لیتی ہوگی. اور اپنی اس خوش فہمی کو آپ نےیقین کا درجہ بھی دے ڈالا. بہت سادگی اپنای ھے آپنےاپنی سوچ میں..!

آپ نے یہ کیوں نہی سوچا کہ حکمران و وذرا کیلیےکھانے Five Star ہوٹلوں سے پکے پکاے آتے ھونگے یا انھیں کے اپنے ہای فای مطبخ میں آعلی نسل کے جانور ذبح ہوتے ہوں.! وہ اتنے بھی نادان نھیں کہ مضرسحت دوکانوں کا رخ کریں..

گدھے کٹنے کا راز افشاں ہوا تو عوام نے جانا اور جو راز ابھی افشاں نہ ہوے ہوں مثلا کتاوسور یا مردارجانور وغیرہ..؟

"آ ئیں ہم مزے کرتے ہیں اور قدرت کے انتقام کا انتظار کرتے ہیں."

بالفرض یہ خود غرض و نا اہل حکمران اور یہ انتقام قدرت کی طرف سے ہمارے اپنے اعمال و کرتوتوں کی سزا قرار پاےُ، تب آپ کی راےُ کیاُ ہوگی.؟

بشری خان
آللہ آباد

* اردو لکھت اور ٹایپنگ کمزور ہے معافی چاہتی ہوں..

Maf kijye ga
It aur Software se apka talluk hy per aap ka Blog bahot Naqis hai. Ek link bana ker comments send karne ki koi sabulat nahi hai. "Tabsera kijye" ko kam o besh das bara bar click kiye jane per bhi koi movement nahi.! Isey check kijye aur theek kijye..

گمنام کہا...

معاف کیجیے گا !

لگتا ہے آپ نےمحض
اتنی سی بات سوچ کر کہ حکمران و وذرا حضرات بھی اسی دوکان سے گوشت منگواتے ہونگے جن دوکانوں سے عام پبلک لیتی ہوگی. اور اپنی اس خوش فہمی کو آپ نےیقین کا درجہ بھی دے ڈالا. بہت سادگی اپنای ھے آپنےاپنی سوچ میں..!

آپ نے یہ کیوں نہی سوچا کہ حکمران و وذرا کیلیےکھانے Five Star ہوٹلوں سے پکے پکاے آتے ھونگے یا انھیں کے اپنے ہای فای مطبخ میں آعلی نسل کے جانور ذبح ہوتے ہوں.! وہ اتنے بھی نادان نھیں کہ مضرسحت دوکانوں کا رخ کریں..

گدھے کٹنے کا راز افشاں ہوا تو عوام نے جانا اور جو راز ابھی افشاں نہ ہوے ہوں مثلا کتاوسور یا مردارجانور وغیرہ..؟

"آ ئیں ہم مزے کرتے ہیں اور قدرت کے انتقام کا انتظار کرتے ہیں."

بالفرض یہ خود غرض و نا اہل حکمران اور یہ انتقام قدرت کی طرف سے ہمارے اپنے اعمال و کرتوتوں کی سزا قرار پاےُ، تب آپ کی راےُ کیاُ ہوگی.؟

بشری خان
آللہ آباد

* اردو لکھت اور ٹایپنگ کمزور ہے معافی چاہتی ہوں..

Maf kijye ga
It aur Software se apka talluk hy per aap ka Blog bahot Naqis hai. Ek link bana ker comments send karne ki koi sabulat nahi hai. "Tabsera kijye" ko kam o besh das bara bar click kiye jane per bhi koi movement nahi.! Isey check kijye aur theek kijye..

M. Imran Iqbal کہا...

میں یہ بات جانتا ہوں کہ قدرت ہم سب سے انتقام لے گی اگر ہم نے نظام کو درست کرنے کیلیے اپنا حصہ نہ ڈالا تب بھی۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام اعلی معیار کے ہوٹلوں میں وہی غریب عوام کام کرتی ہے جو کہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم ہے۔ کبھی کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں کھڑے گارڈ سے لے کر کچن میں کام کرنے والے تک کا مشاہدہ کیجئے گا ۔