صفحات

جمعرات، 4 ستمبر، 2014

آئی کلاوڈ(iCloud) ہیک اور احتیاطی تدابیر

انٹرنیٹ سروس کا کوئی نہ کوئی واقعہ دنیا میں گردش کرتا رہتا ہے ۔ جیسے جیسے انٹرنیت کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ پر نت نئی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تو ایسے ہی انٹرنیٹ پر ہیکنگ کے واقعات میں روز ہروز اضافہ ہو رہا ہے۔ 
ابھی اطلاعات آرہی ہیں کہ کچھ دنیا کے مشہور فلمی ستاروں کی تصاویر ایپل کے آئی کلاوڈ سروس سے چوری ہو گئی ہیں ۔ جو کہ ایک انتہائی تشویشناک واقعہ ہے ۔ کیونکہ اس دور میں ہم سب ہی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی ذاتی تصاویر نہ صرف انٹریٹ کے ذریعے بھیجتے اور وصول کرتے رہتے ہیں بلکہ اٹرنیٹ کی مختلف کلاوڈ سروسز پر محفوظ بھی کرتے رہتے ہیں اور یہ اب وقت کی ضرورت بھی بن گئی ہے ۔ تصاویر کے علاوہ  ہم بہت اہم دستاویزات بھی انٹرنیٹ پر محفوظ کرتے ہیں جن کے اندر بہت اہم کاروباری اور ذاتی معلومات بھی ہو سکتی ہیں جیسے کہ اب بہت سارے موبائیل فون ہماری طبی (میڈیکل) معلومات بھی محفوظ کرتے ہیں ۔ 

تو وقت کے ساتھ انٹرنیٹ کلاوڈسروس کی سیکیورٹی کی اہمیت کا احساس بھی بڑھتا جا رہاہے ۔ اور کلاوڈ سے ڈاٹا چوری ہونے والے واقعات سے یقیناً کلاوڈ سروسز پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔

تازہ واقعہ میں ایپل کمپنی کا کہناہے کہ ہمارا نظام درست کام کر رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ کسی نے پاسورڈ کوڈ چوری کر لیا ہو اور پھر اسے استعمال کر کے تصاویر اور دوسرا ڈیٹا چوری کر لیا ہو۔ وجہ کوئی بھی ہو اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے پاسورڈز کو محفوظ رکھیں ۔ 

حقیقت یہ ہے کہ پاسورڈ کئی طرح سے چوری ہو سکتا ہے ۔

  • بڑی وجہ آجکل وی پی این (VPN) سروسز بھی ہو سکتی ہیں جن کے زریعے تمام ڈاٹا کسی ایک نامعلوم کمپنی کے کمپیوٹرز سے ہو کر گزرتا ہےجس کے بارے میں ہمیں کوئی پتہ نہیں ہوتا ۔
  • یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہیں غیر محفوظ مفت کا انٹرنیٹ وائی فائی (WiFi)استعمال کر لیا ہو اور وہ دراصل کسی ہیکر نےمعلومات چوری کرنے کیلئے اپنا جال پھیلا رکھا ہو ۔
  • ایک اور اہم وجہ جو سمجھ میں آسکتی ہے وہ سی سی ٹی وی (CCTV)کیمرہ ہیں جو کی سیکیورٹی کے نام پر ہر جگہ لگے ہوئے ہیں اور جب کوئی بھی کیمرہ کے سامنے موبائیل کا پاسورڈ ڈالے گا تو کیمرہ پر اس کی ریکارڈنگ ہو جائے گی اور اسے دیکھ کر پاسورڈ معلوم کیا جا سکتا ہے ۔
  • کوئ ایسی ایپ بھی ہمارا ڈاٹا چوری کرسکتی ہے جو کہ ہمارے موبایئل پر موجود ہو اور ہمیں احساس بھی نہ ہو ۔ 

اب ہمیں یہ بھی احساس ہو رہاہے کہ شاید انٹرنیٹ پر معلومات کو محفوظ رکھنے کیلئے پاسورڈ کوئی قابل بھروسہ طریقہ نہیں ہے اور وقت کے ساتھ نئے طریقے بھی دریافت کرنے ہونگے اور اس وقت تک ہمیں جس حد تک ممکن ہو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہونگی تاکہ محفوظ رہیں۔

1 تبصرہ:

محمد صابر کہا...

بہت عمدہ۔
میں نے کل اپنی سی کاوش کی تھی کہ دوستوں کو اس بارے میں بتایا جائے۔
http://urdublog.muhasab.info/phishing/