صفحات

ہفتہ، 30 مئی، 2015

گدھے کا گوشت، قدرت کا انتقام

معاشرے میں جس طرح کرپشن سرایت کر چکی ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ کبھی بھی ختم نہیں ہو گی۔
 میں یہ سوچتا تھا کہ یہ نظام کیسے درست ہو گا اور یہ ظلم اور کرپشن کیسے ختم ہو گی لیکن  جب سے مجھے پتا چلا کہ گدھوں کا گوشت تمام اربابِ اختیار کے کھانوں میں پہنچ چکا ہے تو مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا ہے اوراب  میں پر سکون ہو گیا ہوں۔

مجھے قدرت کی وہ سٹریٹجی سمجھ میں آگئ ہے جس سے وہ ان کرپٹ لوگوں کا خاتمہ کرے گی اور کرپٹ لوگوں کو اسی نظام کی چکی پیس سے دے گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سمجھدار کیلیے اشارہ ہے ۔

جب سے مجھے پتہ چلا ہے کی تقریباً ہرحکمران، وزیر اور اعلی عہدیدار تک گدھے کا گوشت پہنچ چکا ہے تو مجھے یقین ہو گیا کہ اب قدرت ان سے ان کے اعمال کا بدلہ لینے پر آچکی ہے۔ جب حکمران کرپٹ ہونگے تو وہ اپنے آپ کو بچانے کیلئے اپنے ارد گرد کوئ نیک یا پارسا لوگ تو اکٹھے نہیں کرینگے نا ۔

اب اگر نا اہل اور کرپٹ پولیس والے بھرتی کر دئے جائیں گے تو وہی پولیس اہلکار ان کی حفاظت بھی کریں گے ۔ مگر نا اہل ہونے کی وجہ سے یقیناً انہی کی نا اہلی سے مارے جائیںگے ۔ جیسے کی کچھ دن پہلے ایک غیر متعلقہ شخس سینیٹ میں پہنچ گیا تھا ۔

اب اگر میں جعلی دوائ کی اجازت رشوت لے کر دے دونگا تو میرا بیٹا،بیٹی، بیوی اور میں خود بھی تو وہی دو کھاوں گا اور پھر اس ملاوٹ کے مزے لوں گا ۔ میرے جییسے بیوقوف شخص نہیں ہوگا جو یہ سمجھے کہ امپورٹڈ پیکنگ میں بکنے والی دوائ دراصل میرے محلے تیار کی گئ ہے ۔

بھائ کرپٹ لوگ کیسے کسی نیک اور پارسا کو ڈاکٹر لگا سکتے ہیں، اور وہ اپنے جیسے کسی کو ڈاکٹر لگا ئیں گے تو کسی ایک دن ان کو خود یا ان کی آل میں سے کسی کو اسی سے دوائ لینی ہے ۔

نااہل اور کرپٹ محکمہ صحت کے لوگوں کی وجہ سے اگر غیر صحتمند گوشت بازار میں دستیاب ہے تو یقیناًً ان ناہل لوگوں کا خاندان اور یہ خود بھی گدھے کا گوشت ہی کھا رہے ہوںگے۔ جیسے کہ قصابوں نے مانا کہ جو گوشت فوڈ انسپکٹر کے گھر میں گوشت جاتا تھا وہ بھی گدھے کا گوشت ہوتا تھا ۔

اگرارباب اختیار ایر لائین میں نااہل لوگ بھرتی کرینگے تو خود بھی ایک دن اسی نااہل بندے کے ہاتھوں قدرتی انتقام کا شکار ہونگے ۔

مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ اس تحریر سے ان لوگوں کو کوئ فرق نہیں پڑے گا جو اس کرپٹ نظام کا حصہ بن چکے ہیں وہ اب بھی کئ دلائل دیں گے اور اپنے آپ کو بالکل بے گناہ اور مجبور ثابت کرینگے مگر میں کیا کروں جب کہ مجھے نظر آرہاہے کہ قدرت تو انتقام لینے پر تیا ر کھڑی ہے۔ کبھی وہ گدھے کا گوشت کھلائے گی کبھی وہ جعلی دوائ دلوائے گی کبھی چھپکلی والا برگر کھلا دے گی کبھی ڈاکٹر سے غلط آپریشن کروا دے گی اور کبھی بچے کو نشے میں مبتلا کروا کر مستقبل تباہ کروا دےگی ۔ آئیں ہم مزے کرتے ہیں اور قدرت کے انتقام کا انتظار کرتے ہیں ۔

اتوار، 22 فروری، 2015

ہمارے کاروبارمیں جدت کیوں نہیں ؟

میں جب سے لاہور منتقل ہوا ہوں تو لاہور کے کھانوں کی بہت تعریف سنی ہے۔ اور کئ بار تجربہ بھی کیا اور اندازہ ہوا کہ لاہور کے کھانوں میں جو لزت اور زائقہ ہے وہ یقناً خاص ہے۔

اسی طرح کچھ دن پہلے ایک دوست کے ساتھ لاہور کا مشہور "ہریسہ" کھانے کا اتفاق ہوا ۔ میرا دوست مجھےجب اس دکان پر لے گیا تو اس نے بتایا کہ یہ ہریسہ دو نسلوں سے اسی دکان میں چل رہا ہے اور یہ اسی طرح مشہور ہےجیسے کئ سال پہلےمشہور تھا ۔ مجھے یہ سن کر خوشی ہوئ کہ ہمارے ہاں کئ کاروبار نسل در نسل چل رہے ہیں جو کہ ایک مثبت بات ہےاور اس روایت کو اور آگے بڑھنا چاہئے ۔

ہریسہ کی دکان میں پہنچ کر میں شدید کشمکش کا شکار ہو گیا ۔ دکان کی حالت کسی بھی طرح ایک کھانے کی جگہ نہیں لگ رہی تھی۔ یہ تو ایک انتہائ پرانی دکان تھی اور صفائ کا کوئ خاص انتظام نظر نہیں آرہا تھا۔ ہاتھ دھونے کی جگہ اتنی گندی تھی کہ ہاتھ دھونے کا دل نہیں کر رہا تھا ۔ بیٹھنے کیلیئے کرسیاں بھی صاف نہیں کی گئیں تھیں اور برتنوں کی صفائی دیکھ کر تو دل ویسے ہی بھر گیا ۔ اس سے اندازہ ہوا کہ جس نسل نے دکان کا آغاز کیا تھا اس کے بعد کسی میں ترقی کا شعور نہیں آیا ۔

یہ سب دیکھنے کے بعد ایک بات سمجھ میں آگئی کہ اس جدت پسندی کے دورمیں ایسے کاروبار کتنا عرصہ تک زندہ رہ سکتے ہیں جب کہ ان کے پاس کسٹمر سروس کا کوئ تصور ہی نہیں ہے۔ ایسے کاروباری حضرات پر زمانے کی تبدیلی کے کوئ اثرات مرتب نہیں ہو تے ہیں۔

پھر میں نے سوچا کہ یہ صورتحال تو کئی جگہ موجود ہے ۔ جو سائیکل ہم نے بچپن میں دیکھی ہے اس میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئ اور نہ ہی کوئ اس میں اضافی سہولت مہیا کی گئ ہے ۔ جو موٹر سائیکل ہم نے کئی سالوں پہلے تیا ر کی تھی وہ اب بھی یہاں جوں کی توں بیچی جا رہی ہے۔ اس کے بر عکس کئ بیرونی ممالک اپنے گاہکوں کو مایئل کرنے کیلئے ہر سال نئے فیچرز کے ساتھ اپنی مصنوعات ہمارے ممالک میں بھیجتے ہیں اور ہمارے کاروباری اور صنعتکار صرف برا بھلا کہنےکے سے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ 

جو کاروبار بھی ہمارے معاشرے میں ترقی کرتے نظر آتے ہیں وہ سب کے سب وقت کی آواز کو سنتے ہیں اپنے مصنوعات میں جدت لاتے ہیں اور نئے تجربات کر کے کسٹمرز کو متوجہ کرتے ہیں اور یوں آگے بڑھتے ہیں ۔ 

چین کی مصنوعت کی بھر مار کے پیچھے ایک بہت بڑی پروڈکٹ ریسرچ نظر آتی ہے ۔ ایک ہیٹر کے ساتھ صرف ایک پنکھا لگانے سے ایک نئی پروڈکٹ بن جاتی ہے اور ایک مقابل کی کمپنی بند کی جا سکتی ہے۔ہم گیس ہیٹر بنانے والی فیکٹریاں چلاتے ہیں مگر پھر بھی جاپانی گیس ہیٹر کو ترجیح اس لیے دیتے ہیں کی انہوں نے وقت کے ساتھ اس میں بدلاو کیے اور اس کی افادیت میں اضافہ کیا۔ ہمارے بزرگ اب بھی موٹر سیائیکل کو "کک"مار مار کر بیزار آجاتے ہیں مگر ہماری موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیا اس میں ایک عدد "سلف اسٹارٹر" لگانے کا تجربہ نہیں کر سکتی ہیں ۔
 یہ "انوویشن " ہمارے معاشرے میں کب آئے گی۔ ہماری پچاس سالہ سائیکل کب بدلے گی، ہماری گاڑی عالمی معیار پر کب آئے گی، ہمارے پنکھے میں جدت کب آئے گی۔ ہم کب نیا ہیٹر ایجاد کریں گے۔ ہمارا UPS  کب توانائی بچانے والا بن سکے گا ؟

یہ سب سوچتے ہی ہریسہ سامنے آیا اور ہم نے اسے کھانا شروع کردیا اور پانی کی درخواست کی جو کہ ہریسہ ختم ہونے اور بل کی ادائیگی تک نہ دستیاب ہو سکا۔ ہم پانی کے بغیر پیٹ بھر کر اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر نکل پڑے۔


پیر، 5 جنوری، 2015

میں پاک فوج کو سلام پیش کیوں نہ کروں

ہم نے جب سے پشاور کا سانحہ دیکھا ہے تو ہم سب غم میں ڈوبے ہوئے ہے ۔ میں نے اس واقعے کے بعد لوگوں کے خیالات بدلتے دیکھے ہیں ۔ لوگ اب اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گرد عناصر کو اب مکمل طور پر صاف کر دینا چاہئے۔ 
ہمیشہ کی طرح سیاست دانوں کی نااہلیت ثابت ہو گئ ہے۔جو رپورٹ میں نے سوشل میڈیا پر دیکھی ہے اور جس میں خیبر پختونخواہ حکومت کو یہ بتایا گیا تھا کہ پشاور کے سکول پر حملے کی منصوبہ بندی ہوگئی ہے تو یقیناٴ حکومت خیبر پختونخواہ سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے کیا کیااورمرکزی حکومت اتنے عرصے تک دہشتگردوں کو سزائیں کیوں نہیں دلوا سکیں۔
 لیکن قوم کے پاس اب بھی ایک امید کی کرن ہے اور وہ ہے افواج پاکستان۔اس سانحے کے بعد پاک فوج نے جس رد عمل کا اظہار کیا ہے وہ یقینی طور پر متوقع تھا۔ فوج نے کاروائیاں تیز کر دیں اور لگتا ہے کہ کئ پیچیدہ معاملات پر واضع اور کھلے موقف کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
فوجی عدالتوں کا قیام بھی اسی ردعمل کے طور پر سامنےآرہاہے ۔ مجھے نہیں پتا جمہوریت کے دعوے دار اس کو کیوں قبول کر رہے ہیں اور شاید ان کے اسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ اگر جمہوری حکومتیں انصاف کے نظام کی درستگی کی کوششیں کرتی نظر آتیں تو اس متوازی نظام کی ضرورت نہ ہوتی اور عوام کو بالعموم سستااور فوری انصاف مل رہا ہوتا۔ 
عوامی جمہوری حکومتیں پچھلے سات سال میں عوام کو جس جمہوری نظام کو نافز کرنے کی نوید سنا رہی ہے اس جمہوری نظام میں آج تک کبھی بھی سارے سیاسی رہنما اس طرح اکٹھے نہیں بیٹھ سکے۔ ان سب کو یہ توفیق نہیں ملی کہ یہ اکٹھے ہو جائیں اور پاکستان میں نظام انصاف کی اصلاح کیلے کوئ طرقہ کار وضع کر سکیں، کوئ بل منظور کر سکیں یا کوئ آرڈیننس ہی لے آئیں ۔یہ سب جانتے ہیں کہ اگر عام عدلیہ مضبوط ہوتی ہے تو ان کے جاتی امرا، بنی گالا اور کلفٹن کے محلات محفوظ نہ رہیں گے۔ یہ سب جمہوریت کے دعویدار اب فوجی عدالتی نظام کو نافز کرنا چاہتے ہیں کی ان سیاسی جدوجہد جاری رہ سکے۔ اور وہ عوام کے سامنے سرخرو ہو سکیں ۔ 

پاک فوج کی واضع وابستگی نے یہ بات بھی ثابت کر دی ہے کہ افواج کو کام کروانا آتا ہے اور اگر ان کو کام کروانا آتا ہے تو ہمارے سیاسی رہنما کب سیکھیں گے کہ عوام کو بھی تیز رفتار انصاف چاہئے اور وہ برسوں تک تھانے اور کچہری کا چکر نہیں لگا سکتے ۔ اگر موجودہ جمہوری نظام بنیادی انصاف فراہم نہیں کر سکتا تو میں کیوں جمہوریت کی تمنا کروں اور کیوں اپنے سیاسی رہنماوں کےمفادات کا تحفظ کروں۔

منگل، 7 اکتوبر، 2014

ہر چیز زہر سے نہیں مرتی کبھی گڑ بھی استعمال کریں

میرا بچپن گاوٴں میں گزرا۔ گاوٴں کی پسماندگی کی حالت یہ تھی کہ میں پانچویں جماعت میں پڑہتا تھا جب ہمارے گاوٴں میں بجلی آئی تھی۔ 
گاوٴں کی زندگی میں کیڑے مکوڑوں، زیریلے سانپوں اور تمام پالتو جانوروں کو اپنے ماحول کا حصہ دیکھا اور اس سے کوئی ڈر یا خوف نہیں محسوس کیا۔ گھر کے کمروں کے چھت کچے تھے اور لکڑی کے شہتیروں سے بنے ہوئے تھے۔ گھر کی چھت میں چڑیوں کے گھونسلے ایک عام سی بات تھی اور وہ چڑیاں اس ماحول کا حصہ لگتی تھیں  اور اگر کبھی زیادہ تنگ کرتی تھیں تو کچھ روٹی کے ٹکڑے نیچے پھینک دیے جاتے اور وہ ان کو اٹھا کر خاموش ہوجاتیں۔ ان چڑیوں کے انڈوں اوربچوں کے شکار کی تلاش میں کبھی کبھار سانپ بھی آجاتے تھےچڑیاں ایک دم مخصوص آواز میں مدد کو پکارتیں تو ہماری دادی اماں اچانک سے اٹھتی تھیں اور ایک مخصوص ڈنڈا اٹھاتیں، جس کے سرے پر ایک مخصوص لوہے کا ٹکڑا لگا ہوتا تھا  اور وہ سانپ کے پیٹ میں گھونپتی تھیں اور سانپ کو زمیں پر گرا کر مار دیتی تھیں۔ یوں چڑیوں کا شور ختم ہو جاتا، گویا قدرت خود ہی الارم کا کام کرتی تھی اور انسان چڑیوں کو اور چڑیاں انسان کو بچاتی تھیں۔

یہ سب یاد آگیا، کیونکہ میرا بیٹا چیونٹیوں کو مارنے کیلیے ایک زہریلا سپرے اٹھا لایا تو میں نے اسے فوراً روکااور اپنی دادی اماں کا طریقہ کار بتایا۔ ہم نے دیکھا تھا کہ جب کبھی چیونٹیاں نکل آتی تھیں تو دادی اماں فوراً چیونٹیوں کے بل کے نزدیک آٹے کی مٹھی ڈال دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ ان چیونٹیوں کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا اگر ہم ان کی بھوک نہ مٹائیں اور چیونٹیاں آٹا اٹھانے کے چکر میں تنگ نہیں کرتی تھیں اور واپس بل میں گھس جاتی تھیں ۔ یہ ہے وہ فطرت کے ساتھ انسان کا تعلق جس کی وجہ سے انسان نے لاکھوں سال بغیر کسی پیسٹیسائیڈ Pesticide ، بغیر کسی Antiseptic ، اینٹی بائیوٹیک Antibiotic اور بغیر کسی بوٹی مار سپرے کے گزارے ہیں ۔ 
اب جب میں ہر جگہ جراثیم کش صابون اور جراثیم کش سپرے کے اشتہار دیکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ اب انسان نے فطرت کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے اور فطرت کے یہی کارندےاس کے دشمن ہو گئے ہیں اور اب یہ دکھا یا جاتا ہے کہ جراثیم دن بدن طاقتور ہو رہے ہیں ۔کبھی مچھر انسان کے قابو سے باہر ہو جاتا ہے تو کبھی کوئی اور فطرت کا کارندہ انسان کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔اور انسان پہلے سے طاقتور زہر کی ایجاد شروع کر دیتا ہے۔
اب مجھے یہی دشمنی انسان کے خون میں سرایت کرتی نظر آتی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے  کہ جو دین ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے انتہائی محبت کے ساتھ پھیلایا تھا اور لوگوں کو محبت کی زبان سے قائل کیا تھا اسی نبی کریم ﷺ کے ماننے والے دین میں اختلاف پرجان سے مارنے کو عین دین سمجھتے ہیں ۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کوئی رد عمل ظاہرنہیں ہوگا ؟

ہفتہ، 20 ستمبر، 2014

پاکستان میں3G کا مستقبل اورمواقع

ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں 3G موبائیل ٹیکنالوجی کی دستیابی شروع ہو چکی ہے اور اب ہم اپنے موبائیل فون پر   صرف انٹرنیٹ ہی نہیں بلکہ تیز انٹرنیٹ استعمال کر سکتے ہیں ۔ گو کہ ابھی تک اس سروس کی دستیابی بہت وسیع پیمانے پر نہیں ہوئی ہے مگر اب متعارف ہو چکی ہے تو آہستہ آہستہ پھیلنا شروع ہو جائے گی۔ 

اب ہمیں اس بات پر سوچنا ہے کہ اس سے کیا فائیدہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ کئی لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کی عوام میں اس کی مقبولیت زیادہ نہیں ہوگی اور اس کا کوئی مناسب کاروبار میں استعمال نہیں ہو سکتا ۔ میری رائے میں جتنا بڑا یہ ملک ہے اور جس قدر تیزی سے موبائیل کا پھیلاوُ پاکستان میں ہوا ہے 3G کے پھیلاوُ کی رفتار اس سے کافی زیادہ  تیز ہوگی۔ 
ہمارے ملک میں اکثریت نوجوانوں کی ہے اور یہ سب رابطہ رکھنا چاہتے ہیں  انٹرنیٹ کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو صرف مناسب سروسز کی فراہمی ضروری ہے جو ان لوگوں کی ضروریات کو پورا کرسکے

بدقسمتی سے ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کا سارا کاروبار کراچی، لاہور ، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں ہی ہوتا ہے اور باقی دور دراز کے علاقوں کو ہم نے کبھی بھی وہ اہمیت نہیں دی تو ہماری سوچ محدود ہو کر رہ جاتی ہے ۔ 

انٹرنیٹ کی مقبولیت اب پاکستان کے ہر شہر اور گاوُں میں ہو چکی ہے اور اس کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ۔ اور جیسے کہ ابھی بھی انٹرنیٹ پر صرف ایک بڑی کمپنی کی اجارہ داری قائم ہے اور اسی وجہ سے اپنے گاہکوں کو تسلی بخش معیار مہیا نہیں کر سکی ہے اور جو WiMax (وائی میکس) کمپنیاں بھی آئی وہ اپنی سہولیات کو چند بڑے شہروں سے آگے نہیں لے کر جاسکے اور جہاں پر ان کے سروس دستیاب ہے وہاں بھی اکثریت مطمعن بالکل نہیں ہے اور انترنیٹ کا سنجیدہ کسٹمرز ہمیشہ پریشان ہی رہتے ہے جو کہ مجبورہیں کہ غیر تسلی بخش سروس استعمال کریں ۔ وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی مناسب سروس دستیاب ہو تو اس سے استفادہ کر سکیں اسی وجہ سے تمام اٹرنیٹ سروس پروائڈرز ابھی تک گاہکوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی آفرز ہی دیتے رہتے ہیں ۔

موبائیل کمپنیوں کا نیٹ ورک اب بہت وسیع ہو گیا ہے اور ان کا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک بھی کافی مضبوط ہے اور اگر یہ اپنی 3G سروس کو با قاعدہ انٹرنیٹ سروس کے طور پر علیحدہ متعارف کروائیں تو یہ بہت زیادہ مقبولیت حاصل کرلیں گے اور اگر معیار کو بہتر رکھا جائے اور کسٹمر کا اطمینان حاصل کیا جائے تو شاید بہت جلد موجودہ انٹرنیٹ سروس پروائیڈر کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں ۔

اس سارے منصوبے میں فتح اس کی ہو گے جو
  •  اپنی سروس کو جلد سے جلد دور دراز کے علاقوں میں مہیا کرے گا
  •  اپنی سروس کے معیار کو کبھی گرنے نہیں دے گا
  • اور مناسب پیکج لائے گا ۔
 یقیناً یہ کام مشکل ہے مگر نا ممکن بالکل بھی نہیں ۔ اور یقیناً نت نئے تجربات سے ہی سیکھا جئے گا اور وہی فائدے میں رہے گا جو یہ تجربات کرتا رہے گا اور تجربات کا حوصلہ رکھے گا ۔


جمعرات، 4 ستمبر، 2014

آئی کلاوڈ(iCloud) ہیک اور احتیاطی تدابیر

انٹرنیٹ سروس کا کوئی نہ کوئی واقعہ دنیا میں گردش کرتا رہتا ہے ۔ جیسے جیسے انٹرنیت کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ پر نت نئی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تو ایسے ہی انٹرنیٹ پر ہیکنگ کے واقعات میں روز ہروز اضافہ ہو رہا ہے۔ 
ابھی اطلاعات آرہی ہیں کہ کچھ دنیا کے مشہور فلمی ستاروں کی تصاویر ایپل کے آئی کلاوڈ سروس سے چوری ہو گئی ہیں ۔ جو کہ ایک انتہائی تشویشناک واقعہ ہے ۔ کیونکہ اس دور میں ہم سب ہی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی ذاتی تصاویر نہ صرف انٹریٹ کے ذریعے بھیجتے اور وصول کرتے رہتے ہیں بلکہ اٹرنیٹ کی مختلف کلاوڈ سروسز پر محفوظ بھی کرتے رہتے ہیں اور یہ اب وقت کی ضرورت بھی بن گئی ہے ۔ تصاویر کے علاوہ  ہم بہت اہم دستاویزات بھی انٹرنیٹ پر محفوظ کرتے ہیں جن کے اندر بہت اہم کاروباری اور ذاتی معلومات بھی ہو سکتی ہیں جیسے کہ اب بہت سارے موبائیل فون ہماری طبی (میڈیکل) معلومات بھی محفوظ کرتے ہیں ۔ 

تو وقت کے ساتھ انٹرنیٹ کلاوڈسروس کی سیکیورٹی کی اہمیت کا احساس بھی بڑھتا جا رہاہے ۔ اور کلاوڈ سے ڈاٹا چوری ہونے والے واقعات سے یقیناً کلاوڈ سروسز پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔

تازہ واقعہ میں ایپل کمپنی کا کہناہے کہ ہمارا نظام درست کام کر رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ کسی نے پاسورڈ کوڈ چوری کر لیا ہو اور پھر اسے استعمال کر کے تصاویر اور دوسرا ڈیٹا چوری کر لیا ہو۔ وجہ کوئی بھی ہو اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے پاسورڈز کو محفوظ رکھیں ۔ 

حقیقت یہ ہے کہ پاسورڈ کئی طرح سے چوری ہو سکتا ہے ۔

  • بڑی وجہ آجکل وی پی این (VPN) سروسز بھی ہو سکتی ہیں جن کے زریعے تمام ڈاٹا کسی ایک نامعلوم کمپنی کے کمپیوٹرز سے ہو کر گزرتا ہےجس کے بارے میں ہمیں کوئی پتہ نہیں ہوتا ۔
  • یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہیں غیر محفوظ مفت کا انٹرنیٹ وائی فائی (WiFi)استعمال کر لیا ہو اور وہ دراصل کسی ہیکر نےمعلومات چوری کرنے کیلئے اپنا جال پھیلا رکھا ہو ۔
  • ایک اور اہم وجہ جو سمجھ میں آسکتی ہے وہ سی سی ٹی وی (CCTV)کیمرہ ہیں جو کی سیکیورٹی کے نام پر ہر جگہ لگے ہوئے ہیں اور جب کوئی بھی کیمرہ کے سامنے موبائیل کا پاسورڈ ڈالے گا تو کیمرہ پر اس کی ریکارڈنگ ہو جائے گی اور اسے دیکھ کر پاسورڈ معلوم کیا جا سکتا ہے ۔
  • کوئ ایسی ایپ بھی ہمارا ڈاٹا چوری کرسکتی ہے جو کہ ہمارے موبایئل پر موجود ہو اور ہمیں احساس بھی نہ ہو ۔ 

اب ہمیں یہ بھی احساس ہو رہاہے کہ شاید انٹرنیٹ پر معلومات کو محفوظ رکھنے کیلئے پاسورڈ کوئی قابل بھروسہ طریقہ نہیں ہے اور وقت کے ساتھ نئے طریقے بھی دریافت کرنے ہونگے اور اس وقت تک ہمیں جس حد تک ممکن ہو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہونگی تاکہ محفوظ رہیں۔

ہفتہ، 19 جولائی، 2014

انقلاب چاہئے یا اخوت ؟

ایک زمانےسے سن رہا ہوں کہ انقلاب آ رہا ہے ۔ میں نے بھی باقی لوگوں کے ساتھ انقلاب کی آس لگا رکھی ہے۔ اور ذہن میں یہ بٹھا دیا ہے کہ بہت سارے مختلف کام انقلاب کی آمد تک ممکن ہی نہیں ۔اور انقلاب کیسے آئے گا جبکہ انقلاب کی تمام تر کوششیں کچھ اپنوں کی نادانیوں اور کچھ اغیار کی سازشوں کی وجہ سے ناکام ہو گئ ہیں۔ ہر وہ قوت یا تحریک جو انقلاب کا نعرہ لگا کر آگے آئی اسے ناکامی کا سامنا ہوا۔ پھر انقلاب کیسے آئے۔
ایک بات جو ہمیں اپنے پیارے نبئ رحمت صل اللہ علیہ وصلم کی حیاتِ طیبہ سے ملی وہ ہے بے داغ ماضی اور نظریہ پر مضبوط ایمان ۔ اگر ماضی بے داغ ہے اور نظریہ پر پختہ یقین ہے تو وہ بندہ ضرور انقلاب لے آئے گا ۔ کیونکہ ایسے رہنما پر عوام کو یقین ہو گا اور اغیار کی سازش اس رہنما پر چل نہیں سکے گی ۔
اب پھر انقلاب کیسے آئے؟ سوال وہیں پر موجود ہے اور جب تک انقلاب نہیں آجاتا تو ہم اسی طرح ظلم کرتے رہیں اور ظلم برداشت کرتے رہیں ؟ اور اگر اس سفر میں کئی صدیاں گزر جائیں تو ہم عام عوام اپنا ضمیر،دین،ایمان اور اخلاص بیچتے رہیں ؟ اور سب سے بڑی بات غریب عوام کی بے چارگی اور سسکیاں ایسےہی دیکھتے رہیں اور سسکتے رہیں؟ 
پھر کچھ یوں ہوا کہ ایک دن ایک افطار کا دعوت نامہ ملا ۔ اور ایک دوست کے اصرارپر وہاں چلا گیا ۔

جب کارروائ شروع ہوئ تو خیال آیا کہ یہ کیا کہانی ہے۔۔ ایک  شخص ڈاکٹرامجد ثاقب ،چودہ سال پہلے ایک کام شروع کرتا ہے اور اس نے پانچ لاکھ سے زائد افراد کواپناروزگار چلانے کیلئے نو ارب روپے سے زائد بلا سودقرضے دے دئے ہیں ؟ یہ کیا ہے؟ جب اس معاشرے میں لوگ بھیک تو دیتے ہیں مگر مزدوری پوری نہیں دیتے ۔ جب ناکام زندگی کے طعنے تو دیتے ہیں مگر کوئی اپنے پاوں پر کھڑا نہیں کر سکتا۔ اور حیرت کی بات۔۔۔ ان قرض لینے والوں میں تقریبا سو فیصد لوگوں نے واپس بھی کر دئے ہیں ۔۔
میں کیسے مان لوں؟ مجھے تو یہی سمجھایا گیا ہے کہ سودی نظام کی جکڑ سے چھٹکارہ نا ممکن ہے اور یہاں ہم نے تو یہی سبق سیکھا ہے کی جب کوئ پیسے لے لیتا ہے تو واپسی بہت مشکل ہوتی ہے ۔ بلا سود قرضہ تو اس قوم کا خواب ہی بن کر رہ گیاہے۔ مگر یہ کام اخوت فا ونڈیشن کی ٹیم نے کر دکھایا ۔

مگر پتہ چل گیا کی یہی انقلاب ہے جو پانچ لاکھ گھرانوں کی زندگیوں میں آگیا ہے  اور پانچ لاکھ خود مختار لوگ اور کئ لوگوں کو خودمختار بنانے کیلیے تیار ہیں اسطرح اور نہ جانے کتنے اور لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آیا چاہتا ہے۔ مجھےتو اپنے سوال کا جوب مل گیا ۔۔۔ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ انقلاب لانا چاہتا ہے تو وہ صرف کام شروع کردے وہ کوئ اخوت بنا لےیا کسی اخوت کا حصہ بن جائے اور اس معاشرے میں رہتے ہوئے انقلاب لانا شروع کردے۔اخوت کی مثال نے عملاً یہ ثابت کر دیا کہ انقلاب فقط سیاسی تبدیلی کا نام نہیں ہے سماج میں ہمہ جہت تبدیلی کیلیے ضروری ہے کہ ہر شخص جہاں تک ممکن ہو انصاف کے انقلاب کیلیےانصاف لینے میں لوگوں کی مدد شروع کردے، تعلیم میں انقلاب کیلیے لوگوں کو تعلیم دینا شروع کر دے، صحت کے انقلاب کیلیے لوگوں کو صحت کی سہولتیں دینا شروع کردے تو وہ انقلاب کے سفر پر گامزن تو ہو جائے گا ورنہ اقتدار کی تلاش میں تو کبھی سفر شروع ہی نہیں ہوگا۔ یقیناً معزز ہیں وہ لوگ جو انقلاب کے سفر پر گامزن ہیں۔